history of antarctica in Urdu
انٹارکٹکا دنیا کی سرد ترین،خشک ترین،بے آب و گیاہ،اور شدید تند و تز ہوا والی جگہ ہے۔ایک کروڑ چالیس لاکھ مربع کلومیٹر علاقے کو برف کی موٹی تہ نے ڈھانپ رکھا ہے لیکن یہ انٹارکٹکا کا صرف دو فی صد علاقہ بنتا ہے۔
اس جگہ پر سب سے پہلے انیس سو گیار ہ میں پہنچا۔
انٹارکٹکا زمین کے جنوب میں واقع ہے۔اس کا موسم شمالی پول سے بلکل مختلف ہے۔انٹارکٹکا میں گرمی کے موسم کا دورانیہ اکتوبر سے لے کر فروری تک ہوتا ہے لیکن گرمی کے موسم میں بھی وہاں ٹمپریچر منفی پچاس سے منفی سو ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے۔مارچ سے لے کر ستمبر تک سردیوں کے موسم کا دورانیہ ہے۔
دنیا کا ستر فی صد تازہ اور شفاف پانی انٹارکٹکا میں پایا جاتا ہے۔
انٹارکٹکا میں کوئی آبادی نہیں ہے۔اسے انٹرنیشنل معاہدہ کے تحت چلایا جا رہاہے
انٹاکٹکا میں ابھی تک کوئی مسقل گھر نہیں ہے لیکن تقریباَ ایک ہزار لوگ مختلف ریسرچ سٹیشن کے ذریعے وہاں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔
انٹارکٹکا میں سینکڑوں پینگوئن،ویل مچھلیاں اور دیگر مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں لیکن کوئی بھی زمینی جانور تا حال وہاں قیام پزیر نہیں ہے کچھ لوگوں کے خیال میں ایسکیموز اور پولر ریچھ انٹارکٹکا میں پائے جاتے ہیں جو کہ غلط ہے کیوں کہ یہ جانور آرکٹک میں پائے جاتے ہیں۔
پانچ کروڑ سال پہلے انٹارکٹکا میں مختلف جانوروں اور جنگلوں کا ہونا بتایا جاتا ہے لیکن یہ سب باتیں صرف کتابوں کی حد تک ہیں
اس جگہ پر سب سے پہلے انیس سو گیار ہ میں پہنچا۔
انٹارکٹکا زمین کے جنوب میں واقع ہے۔اس کا موسم شمالی پول سے بلکل مختلف ہے۔انٹارکٹکا میں گرمی کے موسم کا دورانیہ اکتوبر سے لے کر فروری تک ہوتا ہے لیکن گرمی کے موسم میں بھی وہاں ٹمپریچر منفی پچاس سے منفی سو ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے۔مارچ سے لے کر ستمبر تک سردیوں کے موسم کا دورانیہ ہے۔
دنیا کا ستر فی صد تازہ اور شفاف پانی انٹارکٹکا میں پایا جاتا ہے۔
انٹارکٹکا میں کوئی آبادی نہیں ہے۔اسے انٹرنیشنل معاہدہ کے تحت چلایا جا رہاہے
انٹاکٹکا میں ابھی تک کوئی مسقل گھر نہیں ہے لیکن تقریباَ ایک ہزار لوگ مختلف ریسرچ سٹیشن کے ذریعے وہاں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔
انٹارکٹکا میں سینکڑوں پینگوئن،ویل مچھلیاں اور دیگر مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں لیکن کوئی بھی زمینی جانور تا حال وہاں قیام پزیر نہیں ہے کچھ لوگوں کے خیال میں ایسکیموز اور پولر ریچھ انٹارکٹکا میں پائے جاتے ہیں جو کہ غلط ہے کیوں کہ یہ جانور آرکٹک میں پائے جاتے ہیں۔
پانچ کروڑ سال پہلے انٹارکٹکا میں مختلف جانوروں اور جنگلوں کا ہونا بتایا جاتا ہے لیکن یہ سب باتیں صرف کتابوں کی حد تک ہیں
antarctica, history of antarctica, history, antarctica history in hindi, antarctica history in urdu, antarctica pyramid, antarctica (continent), ufo antarctica, antarctica secrets, antarctica documentary in hindi, ufo, science, conspiracy, documentary, nasa, earth, aliens, antarctic, antarctica facts in hindi, antarctica conspiracy, antarctica documentary in urdu, antarctica urdu, antarctica documentary, antarctica fort, hancock antarctica, ancient history
antarctica, antarctica history in urdu, antarctica facts in urdu, antarctica history in hindi, antarctica information in urdu, antarctica documentary in urdu, antarctica documentary in hindi, antarctica facts in hindi, history in urdu, documentary, history in hindi, history, facts in urdu, urdu, documentary in urdu, kahani in urdu, story in urdu, antarctica in hindi, antarctica urdu, hindi, antarctica facts, facts in hindi, antarctica documentary
0 Comments